ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / بھٹکل نیشنل ہائی وے کے نقشے کو تبدیل کرنے پر عوام میں سخت ناراضگی؛سرکل پر فلائی اوور کا مطالبہ لے کر مختلف اداروں نے اے سی کو دیا میمورنڈم

بھٹکل نیشنل ہائی وے کے نقشے کو تبدیل کرنے پر عوام میں سخت ناراضگی؛سرکل پر فلائی اوور کا مطالبہ لے کر مختلف اداروں نے اے سی کو دیا میمورنڈم

Fri, 25 Mar 2022 18:40:23    S.O. News Service

بھٹکل :25؍ مارچ  (ایس اؤ نیوز) بھٹکل میں نیشنل ہائی وے فورلائن کی تعمیر کو لے کر  شمس الدین سرکل پر پہلے  فلائی اوور تعمیر کیا جانا پلان میں شامل تھا، مگر اب  پلان میں تبدیلی کرتے ہوئے  سرکل پر اؤور برج (ریامپ ) تعمیر کئے جانے کی اطلاع موصول ہوئی ہے جس پر عوام سخت تشویش میں مبتلا ہوگئےہیں۔ کہا جارہا ہے کہ ریامپ تعمیر کرنے کی صورت میں بھٹکل دو حصوں میں تقسیم ہوجائے گا، البتہ ریامپ کی مخالفت اور فلائی اوور کو ہی تعمیر کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے  بھٹکل کے تمام عوام متحد ہوتے اور ایک دوسرے کے قریب آتے نظر آرہے ہیں، اس ضمن میں فلائی اوور بریج ہی تعمیر کرنے اور ریامپ کی سخت مخالفت کرتےہوئے آج جمعہ کو بھٹکل کے 19  اداروں پر مشتمل بھٹکل تعلقہ ناگریک ہیتا رکھشنا ویدیکے  کی طرف سے  بھٹکل اے سی سے ملاقات کرتے ہوئے  اُترکنڑا کے ڈپٹی کمشنر  کے نام ایک میمورنڈم پیش کیا گیا۔

ویدیکے میں شامل بھٹکل مرچنٹ اسوسی ایشن کی طرف سے محتشم  محمد سائب منڈے نے ریامپ کی تعمیر ہونے کی صورت میں نقصانات کا شمار کرتےہوئے اسسٹنٹ کمشنر کو ہی مشورہ دینے کےلئے کہا کہ وہ خود ہمیں بتائیں کہ پرانے پلان کے مطابق فلائی اوور  کا مطالبہ منظور ہونے کے لئے ہمیں کیا کرنا ہوگا، انہوں نےپوچھا کہ کیا ہمیں احتجاج کا راستہ  اپنانا ہوگا  اور بڑی  احتجاجی ریلی نکال کر  زندہ باد اور مردہ باد کے نعرے لگانے ہوں گے ؟ویدیکے میں شامل قومی سماجی ادارہ مجلس اصلاح و تنظیم کے سرگرم رکن عنایت اللہ شاہ بندری نے بتایا کہ  تین روز  قبل ہی  موگیرسماج کے لوگوں نے احتجاجی ریلی نکالی تھی اور ایک ہی سماج کی ریلی کے دوران نیشنل ہائی وے قریب ڈیڑھ گھنٹہ تک بند ہوگیا تھا، اب اگر بھٹکل کے تمام سماج کے لوگ مل کر احتجاجی ریلی نکالیں گے تو اس کا کیا نتیجہ نکلے گا، آپ خود اندازہ لگاسکتی ہیں۔

ویدیکے کے اہم ذمہ دار راجیش نائک نے اے سی کو بتایا کہ سرکل پر اگر ریامپ تعمیر ہوگا تو بھٹکل شہر کی ٹریفک کو قابو میں کرنا ناممکن ہوگا کیونکہ ضلع میں سب سے زیادہ سواریاں بالخصوص ٹو وہیلرس بھٹکل میں پائے جاتے ہیں۔ انہوں نے پوچھا کہممبئی  اور گوا سائیڈ سے آنے والی  سرکاری بسوں کو بس اسٹینڈ جانے کےلئے راستہ کہاں پر ہوگا اس کی کوئی وضاحت نئےنقشے میں نہیں ہے، ریامپ تعمیر کرنے کی صورت میں ایک طرف سرکاری بس اسٹینڈ، انسپکشن بنگلو، دیگر سرکاری دفاتر تو سڑ ک کی دوسری طرف منی ودھان سودھا، سرکاری اسپتال، سنتے مارکٹ وغیرہ ہوں گے۔ انہوں نے  خاکہ کی مدد سے اے سی ممتادیوی کو  مکمل تفصیلات پیش کیں اور کہا کہ ریامپ  کی تعمیر ہمیں کسی بھی صورت میں منظور نہیں ہے۔

بعد میں اخبارنویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے راجیش نائیک نے بتایا کہ ہمیں پرانے پلان کے تحت  300 میٹر تک Pillars والا فلائی اوور بریج ہی شمس الدین  سرکل پر چاہئے، ابھی  پلان تبدیل کرکے  ریامپ تعمیر کرنے کا جو منصوبہ بنایا گیا ہے، وہ ہمیں کسی بھی حال میں منظور نہیں ہے۔ اسی کے ساتھ بھٹکل ٹاون کے جنکشن پر  انڈر پاس بھی تعمیر کرکے دینا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اپنے مطالبات کےساتھ ہم نے بھٹکل کے رکن اسمبلی، ممبر آف پارلیمان اور ڈسٹرکٹ انچارج منسٹر سے بھی رابطہ کیا ہے اور اُنہیں بھی اپنے مطالبات سے آگاہ کرایا ہے۔ انہوں نے ہمیں بھروسہ دلایا ہے کہ بھٹکل کے عوام کے مطالبات پر غور کیا جائے گا، ہم ایک ہفتہ انتظار کریں گے اور دیکھیں گے کہ ہمارے مطالبات پر کوئی عمل ہورہا ہے یا نہیں ، اگر عمل نہیں ہورہا ہے تو پھر ہم مختلف اداروں کے ذمہ داروں سے ساتھ میٹنگ منعقد کرکے   اگلی کاروائی کے تعلق سے غور کریں گے۔

اس موقع پر گفتگو کرتےہوئے  بھٹکل تعلقہ ناگریک ہیتارکھشنا ویدیکے کے کنوینر ستیش کمار نے بتایا کہ  ہم نے بھٹکل کے تقریبا تمام اداروں کو ساتھ لے کر اپنے مطالبات اے سی کے توسط سے ڈی سی کو  پیش کئے ہیں، اگر ان مطالبات پر فوری کاروائی نہیں ہوئی تو ہم تمام  ادارے مل کر بھٹکل میں زبردست احتجاج کرسکتے ہیں اور دھرنے پر بھی بیٹھ سکتے ہیں، مگر بھٹکل کو کسی بھی حال میں دو حصوں میں تقسیم ہونے نہیں دیں گے۔ بھٹکل آٹو رکشہ یونین کی طرف سے صدر کرشنا نائک، بھٹکل تعلقہ سیویل کنٹریکٹرس اسوسی ایشن کی طرف سے صدر تمپا نائک،  بھٹکل بار اسوسی ایشن صدر،  منکولی اور ماروتی نگر نیشنل ہائی وے فورم سمیتی کے صدر نے بھی الگ الگ میمورنڈم پیش کرتے ہوئے  ریامپ کی سخت مخالفت کی اور پرانے پلان کے مطابق ہی  ستونوں والی بریج ہی تعمیر کرنے پر زور دیا۔

سب سے بڑا قومی سماجی ادارہ مجلس اصلاح و تنظیم، رابطہ سوسائٹی، آٹورکشہ یونین، ٹمپو یونین، بھٹکل تعلقہ ورکنگ جرنلسٹ اسوسی ایشن اور مختلف تعلیمی اداروں سمیت جملہ 19 اداروں پر مشتمل بھٹکل تعلقہ  ناگریک ہیتھا رکشھنا ویدیکے کی جانب سے جو میمورنڈم پیش کیا گیا ہے اُس میں بتایا گیا ہےکہ  اترکنڑا ضلع میں بھٹکل  میں  ہی سب سے زیادہ آمدنی ہوتی ہے ،اسی کے تحت بھٹکل کو ترقی دینا اور مقامی حالات کے مطابق ترقیاتی کاموں کو انجام دینا حکومت کا فرض بنتاہے۔ لیکن بھٹکل تعلقہ کے متعلق سوتیلا سلوک اختیار کیا جانا قابل افسوس ہے ، شہرہویا شاہراہ کی تعمیر و ترقی مقامی عوام کی سہولیات کی مناسبت سے کیا جانا چاہئے۔ اترکنڑا ضلع کے سرحد پر واقع بھٹکل  ایک ترقی پذیر شہر ہے، اسی تعلقہ سے حکومت کو زیادہ آمدنی ملتی ہے ، ریاست بھر میں  شاہراہ کا تعمیری کام جاری ہے۔ ریاست کے سبھی اضلاع میں مقامی عوام کی سہولیات کے مطابق تعمیری کام ہورہاہے، لیکن صرف بھٹکل تعلقہ میں شاہراہ کا کام بہت ہی دھیمی رفتار سے جاری ہے اور آخری مراحل میں تعمیری کاموں کو جلد بازی میں ختم کرنےکی سازش نظر آرہی ہے۔ کیونکہ شاہراہ کی تعمیر کے ابتداء میں جو منصوبہ تشکیل دیاگیا تھا اب اس کو بدل کرآئی آر بی کمپنی والے قلب شہر شمس الدین سرکل پر فلائی اوؤر تعمیر کرنے کے بجائے اؤور برج (ریامپ کے نیچے برج) تعمیر کرنے کی اطلاعات ہیں۔

تشکیل شدہ منصوبے میں تبدیلی ہونے کی وجہ سے نہ صرف شہر کی خوبصورتی خراب ہورہی ہے بلکہ عوام کو بھی کافی دشواری ہوگی۔ سرکل پر ریامپ تعمیر کئے جانےسے سرکل کے کنارے پرواقع منی ودھان سودھا، سرکٹ ہاؤس ، اسکول، کالج ، بس اسٹائنڈ،  سرکاری اسپتال ، سنتےمارکیٹ، پی ڈبلیو ڈی دفتر، تعلقہ پنچایت دفتر، ضلع پنچایت دفتر ، عدالت سمیت کئی سارے محکمہ جات کےدفاتر ہیں۔ دیہی علاقوں سے آنے والے عوام کو ایک دفتر سے دوسرے دفتر جانے کے لئے کرایہ کی سواریوں پر انحصار کرنا ہوگا۔ جس  کا کام صرف سڑک پارکرکے ہی کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح عام عوام کو کافی ساری مشکلات، دشواریاں اور پریشانیاں ہونگی۔ میمورنڈم میں اس بات کا بھی خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ  فوری طورپر ریامپ کی تعمیر کرتےہوئے بھٹکل شہر کو تقسیم کرکے حساس علاقے میں بد امنی  پھیلانے کی سازش نظر آرہی ہے۔ ہم حکومت سے مطالبہ کرتےہیں کہ وہ متعلقہ پلان کو بدل کر پہلے جو عملی نقشہ بنایاگیا تھا اسی کے تحت پِلّر پر فلائی اوؤر تعمیر کرتےہوئےامن کو بحال رکھا جائے۔ اگر عوام کے ان مطالبات کو قبول نہیں کیاگیا تو عوامی سطح پر سخت احتجاج کرنا مجبوری ہوگی ۔ امید کہ آپ اس کا موقع نہ دیتےہوئے ہماری مانگوں کو حل کریں گے۔

میمورنڈم وصول کرتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر ممتادیوی نے عنقریب نیشنل ہائی وے کے ذمہ داران پر مشتمل ایک میٹنگ  بلائے جانے کا یقین دلایا۔  اس موقع پر ویدیکے کے سنچالک ستیش کمار این نائک ، راجیش نائک، عتیق الرحمن منیری ، ایم جے عبدالرقیب، عنایت اللہ شاہ بندری ، جیلانی محتشم، محتشم محمد صائب منڈے، ایم آر نائک، کرشنا نائک، تمپا نائک  سمیت کئی دیگر ذمہ داران  موجود تھے۔


Share: